تاریخ
13
ویں صدی سےتاریخ کا حصہ بننے والا یہ شہر
1701 سلطنت پرشیا
| متحدہ جرمنی کے بانی ولیم قیصر کی یادگار |
برلن کو ویمار جمہوریہ قرار دیا گیاـ 1920ء میں برلن کے گرد و نواح
کے دیہات کو ملا کر ایک بڑا شہر بنایا گیا جس کی آبادی 40 لاکھ کے قریب تھی ـ
ان کے دور میں یہودیوں سمیت ملک کی تمام غیر آریائی باشندوں پر بہت منفی اثرات مرتب ہوئے۔ نازی حکومت سے پہلے برلن میں یہودیوں کی تعداد 17 لاکھ تھی ـ لیکن 1938ء میں "کرستال ناخت" کے بعد ہزاروں یہودیوں کو قریبی "زاشن ہاؤزن کیمپ" میں قید کر دیا گیاـ
1943ء کے بعد ان کو آشوٹز جیسے کیمپوں میں منتقل کیا گیا جہاں ان کا بڑی تعداد میں مبینہ قتل عام کیا گیاـ ہٹلر کا ارادہ تو تھا کہ برلن کو دوبارہ ایک عظیم طرز پر تعمیر کیا جائے لیکن دوسری جنگِ عظیم کی وجہ سے صرف اولمپک اسٹیڈیم ہی بن پایاـ
دوسری جنگِ عظیم نے برلن میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی خصوصاً فضائی حملوں سے برلن شہر کی تعمیرات کو زبردست نقصان پہنچا۔ جنگ کے بعد مشرقی جرمنی سے بڑی تعداد میں پناہ گزینوں نے برلن کا رخ کیا۔
جرمنی کی شکست کے بعد مفتوحہ جرمنی کو چاروں فاتح اقوام ریاستہائے متحدہ امریکہ، برطانیہ اور فرانس اور سوویت اتحاد نے آپس میں تقسیم کر لیا اور اسی تقسیم کے نتیجے میں برلن شہر بھی چار حصوں میں تقسیم ہو گیا۔
| دیوار برلن جس نے کبھی جرمنوں کے دلوں کو تقسیم کیا ہوا تھا اب صرف سیاحوں کے لیئے نشان عبرت بنی ہوئی ہے |
یوں برلن اگلی کئی دہائیوں تک سرد جنگ کے تناؤ کا مرکز بنا رہا۔ اس دوران برلن ناکہ بندی اور دیوار برلن پر دنیا بھر کی نظریں مرکوز رہیں۔
| جرمنوں کا جزبہ جیت گیا اسلحے کی طاقت ہار گئی دیوار برلن کے گرائے جانے کے وقت کی تصویر |
سرد جنگ کے اس عہد میں مغربی جرمنی کا دارالحکومت بون قرار دیا گیا کیونکہ برلن چاروں جانب سے سوویت علاقوں کے گھیرے میں تھا جبکہ سوویت زیر اثر مشرقی جرمنی برلن ہی کو اپنا دارالحکومت قرار دیتا رہا تاہم اتحادیوں نے اس کو کبھی مشرقی جرمنی کا دارالحکومت تسلیم نہیں کیا۔ 1961ء سے 1989ء میں دیوار برلن کے انہدام تک یہ شہر یوں ہی منقسم رہا
اور جرمنی کا دار الحکومت بنا دیا گیا۔